چندی گڑھ،11؍مارچ (ایس او نیوز؍ایجنسی) چہارشنبہ کے روز ہریانہ قانون ساز اسمبلی کے بجٹ اجلاس میں ایوان کی کارروائی کے دوران کانگریس کی جانب سے پیش کی گئی منوہر حکومت کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک ناکام ہوگئی ہے-ایوان میں ووٹنگ کے دوران55 ایم ایل اے بی جے پی-جے جے پی کی مخلوط حکومت کے حق میں تھے- جبکہ32 ارکان اسمبلی نے حکومت کے خلاف ووٹ دیا- یہ بات واضح ہوگئی کہ بی جے پی-جے جے پی اتحاد اقتدار میں رہے گا-
حالانکہ بی جے پی کے ساتھ حکومت میں شامل جے جے پی کے اراکین اسمبلی کسانوں کے خلاف بنائے زرعی قوانین کے معاملہ میں مرکزی حکومت کو گھیر رہے تھے وہیں اپنے وزیراعلیٰ منوہرلال کھٹرکی پالیسی پر بھی تنقید کررہے تھے،اس سے کانگریس کو امید تھی کہ اسمبلی میں تحریک عدم ا عتماد کے دوران جے جے پی کانگریس پارٹی کاساتھ دے گی لیکن کانگریس کی امیدوں پر پانی پھرگیا اور اس طرح کھٹر حکومت مزید مضبوط ہوگئی-
بجٹ مباحثہ کے دوران سی ایم منوہر لال کھٹر نے کہا کہ کانگریس کو کبھی ای وی ایم پر، تو کبھی ملک کی فوج پر سے اعتبار اٹھ جاتا ہے - اب حکومت پر عدم اعتماد بڑھ گیا، آج ایوان میں جو ماحول پیدا ہوا، یہ بے معنی ہے- منوہر لال نے کہا کہ تنقید کرنا عمدہ مخالفت کا کام ہے- منوہر لال کھٹر نے کہا کہ میں کہتا ہوں، آپ ہر6ماہ بعد عدم اعتماد کی تحریک لائیں، اس سے ہمیں تقویت ملے گی- اگر چہ مخالفت ہی کیوں نہ ہو، اچھے کام کی بھی تعریف کی جانی چاہئے-
بی جے پی کے ممبر اسمبلی اسیم گوئل نے اپنی تقریر میں ’غدار‘ کی اصطلاح استعمال کی، اس پر کانگریس کے ایم ایل اے نے ہنگامہ آرائی کی -اس سے قبل اپنی عدم اعتماد کی تحریک میں سابق سی ایم بھوپندر ہڈا نے کہا تھا کہ ایک پارٹی (بی جے پی) 2019میں ووٹنگ سے قبل عوام کا اعتماد جیتنے کیلئے75پار کا دعویٰ کر رہی تھی، جبکہ دوسری پارٹی (جے جے پی) یمنا پار کرنے کی بات کر رہی تھی، عوام نے دونوں کی ووٹنگ میں مسترد کردیا- یہ الگ بات ہے کہ کسی پارٹی کو اکثریت نہیں ملی- بعد ازاں ایک دوسرے کو کاٹنے والی جماعت کی دوسرے کی دوستی ہوگئی-